عید الاضحی
اردو زبان میں
عید الاضحی ۲۰۲۶
قربانی کے تہوار کے بارے میں اہم حقائق
عید الاضحی اسلام کا ایک عظیم تہوار ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی بے مثال قربانی اور اللہ کی رضا میں سب کچھ نثار کر دینے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
— سورۃ الکوثر: ۲عید الاضحی کے بارے میں ۱۲ اہم حقائق
"عید" کا مطلب ہے "تہوار" اور "اضحیٰ" کا مطلب ہے "قربانی"۔ یہ تہوار ذوالحجہ کی ۱۰ تاریخ کو منایا جاتا ہے اور اسلام کے دو بڑے تہواروں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کا حکم دیا۔ انہوں نے اللہ کے حکم کو سر تسلیم خم کر دیا — یہ بے مثال اطاعت عید الاضحی کی روح ہے۔
حضرت اسماعیلؑ نے اپنے والد کو جواب دیا: "اباجان، جو آپ کو حکم ہوا ہے وہ کر ڈالیں، انشاء اللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔" (قرآن ۳۷:۱۰۲)۔ یہ الفاظ ایمان کی معراج ہیں۔
قربانی کا گوشت تین برابر حصوں میں بانٹا جاتا ہے: ایک اپنے گھر والوں کے لیے، ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک غریبوں اور محتاجوں کے لیے — تاکہ ہر گھر میں عید کی خوشی ہو۔
عید الاضحی حج کے موسم میں آتی ہے۔ دنیا بھر سے ۲۰ لاکھ سے زائد مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہو کر حج ادا کرتے ہیں اور منیٰ کے مقام پر قربانی کرتے ہیں۔
عید کی صبح خصوصی نماز ادا کی جاتی ہے جس میں ۶ اضافی تکبیرات ہوتی ہیں۔ یہ نماز مسجد یا کھلے میدان میں ادا کی جاتی ہے اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔
عید الاضحی سے پہلے تکبیرات پڑھنا سنت ہے۔ مسلمان بلند آواز سے پڑھتے ہیں: اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔
دنیا کے ۱۸۰ سے زائد ممالک میں ۱.۸ ارب سے زائد مسلمان عید الاضحی مناتے ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں سے ایک ہے۔
۲۰۲۶ میں عید الاضحی ۲۷ مئی کو منائی جائے گی جو ۱۴۴۷ ہجری کی ۱۰ ذوالحجہ ہے۔ اسلامی قمری سال گریگورین سال سے تقریباً ۱۱ دن چھوٹا ہے۔
پاکستان میں عید الاضحی پر لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں، رشتہ داروں سے ملتے ہیں، شیر خورمہ اور بریانی پکاتے ہیں، بچوں کو عیدی دیتے ہیں، اور غریبوں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں۔
عید پر بزرگ بچوں کو "عیدی" دیتے ہیں — یہ پیسے یا تحائف ہوتے ہیں جو محبت، دعا اور خوشی کی علامت ہیں۔ یہ رسم مسلم دنیا میں بہت مقبول ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔" (سورۃ الحج: ۳۷) — قربانی کا مقصد اللہ کی رضا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کا واقعہ
حضرت ابراہیمؑ نے تین راتیں لگاتار ایک ہی خواب دیکھا — اللہ انہیں اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کا حکم دے رہا ہے۔ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو بتایا۔ حضرت اسماعیلؑ نے فوراً کہا: "اباجان جو آپ کو حکم ہوا ہے وہ کریں، انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔" — اطاعت کا یہ جواب قیامت تک یاد رہے گا۔
باپ اور بیٹا دونوں قربانی کی جگہ روانہ ہوئے۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے قربانی کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 'اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔'
اللہ نے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا بھیجا۔ یہ آزمائش محض پرکھنے کے لیے تھی — اللہ نے اپنے پیارے بندوں کی محبت اور ایمان کو آزمایا اور وہ کامیاب ہوئے۔
پاکستان میں عید الاضحی
چاند رات
عید سے ایک رات پہلے چاند رات کا جشن منایا جاتا ہے۔ بازاروں میں رش ہوتا ہے، مہندی لگائی جاتی ہے، اور نئے کپڑے خریدے جاتے ہیں۔
خصوصی کھانے
عید پر شیر خورمہ، بریانی، کڑاہی اور حلوہ پوری پکائے جاتے ہیں اور پڑوسیوں میں بھی بانٹے جاتے ہیں۔
عیدی
بڑے بچوں کو عیدی دیتے ہیں — یہ پاکستانی بچوں کے لیے عید کا سب سے خوشی بھرا لمحہ ہوتا ہے۔
فلاح و بہبود
قربانی کا گوشت غریبوں اور مستحقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی عید سے محروم نہ رہے۔